Tuesday, 26 May 2015

"اساس کیا ہے "

رہروانِ رہِ وفا کی اساس ہی کیا ہے

دریدہ دامن و دل اور خیال شوریدہ

بس اک نگاہ تھی کافی نہ تم سےوہ بھی ہوئی

تمام عمر رہے گریہ کناں و نم دیدہ 

  فروری9 ۔2015۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے حُسن کا ، مہتاب بام پر نکلا

شرابہ ، اور دلِ وحشی کا ہو گیا ہے دو چند

تمہارے قُرب کی خواہش ہی غیر فطری ہے

کبھی ، لگا نہیں مخمل میں ٹاٹ کا پیوند 

  مارچ 26 ۔۔2015۔

۔۔۔۔۔۔

سکوتِ شب میں ابھر آیا تیری یاد کا چاند
وہ چاندنی کہ ہر اک داٖغ دل فروزاں ہے
عنایتیں تری اس درجہ ہم پہ ہیں جاناں
بکار اب تو ہمیں ، علاجِ بُخلِ داماں ہے

12 مئی 2015

"وجۂ بےوفائی"

ہماری بندگی ہی بنی ، وجہ بے وفائی کی
شِعار کی ہے ، بُتوں نے رَوِش خُدائی کی

اُسی مقام پر ، ہم آج تک کھڑے ہیں جہاں
بتا کے چل دیا ، کوئی مجبوریاں جُدائی کی

ہر ایک اہلِ جنوں ، زَد پہ ہے کہ جِس نے یہاں
امیرِ شہر کی ، ہیئت پہ لَب کُشائی کی

مداراتِ عاشقاں سے گُریز،راکھ کر گیا شمع
خدایا خیر ، کسی کے کَفِ حِنائی کی

ستم کو ہم نے عنایت کہا ، تیری ہمدم
ہر ایک حال میں ، ہم نے مَدَح سَرائی کی

۔2 مئی 2015