Friday, 5 June 2015

"مات"

عَداوتوں کا تسلسل بھی اِلتفات ہی ہے
دل اِس کو جیت ہی مانے ہے گرچہ مات ہی ہے

وہ لوگ کیسے جیئیں جن کی مشکلیں ایسی
نظر فلک پہ ، سفر سُوئے اِنحطاط ہی ہے

اُسے جو دیکھوں تو ، کب کا وہ کر گیا تنہا
اور اپنے دل میں جو جھانکوں تو اب بھی ساتھ ہی ہے

اُجالا پھیل گیا ، چاروں اَور رُخ سے ترے
بکھر گئے ترے گیسو تو دن بھی رات ہی ہے

تھمے گا کب اے خدا ، سلسلہ عذابوں کا
بعد مرگ بھی ، گر سلسلہء حیات ہی ہے

غمِ زمانہ غمِ جاناں میں مل کے دُونا ہوا
پَہ آگ جتنی بھی بھڑکے مآل راکھ ہی ہے


No comments:

Post a Comment