Sunday, 14 June 2015

" کیا گلہ ہونا"

مہرباں ہو کے ، اُس کا بے وفا ہونا
کیا ہوئے ، چاہتے تھے کیا ہونا

تیرے جانے نے ہم کو بتلایا ــ
سنتے آئے تھے ہم ، ہَوا ہونا

میں ہوں آئینہ ، میری قسمت ہے
ٹوٹنا ، اور جا بجا ہونا ـــــــ

تُو کہ ہیرا ہے ، تیری فطرت ہے
حُسن و سختی میں انتہا ہونا

سُبک روی تیری،لے اُڑی تجھ کو
سو اب ہمارا مقدر غبارِ راہ ہونا

چمن لُٹا ہے مِرا،باغباں کے ہاتھوں سے
کسی سے تِیرہ نصیبی کا کیا گلہ ہونا

جون 14۔۔۔2015

No comments:

Post a Comment