Tuesday, 26 May 2015

"وجۂ بےوفائی"

ہماری بندگی ہی بنی ، وجہ بے وفائی کی
شِعار کی ہے ، بُتوں نے رَوِش خُدائی کی

اُسی مقام پر ، ہم آج تک کھڑے ہیں جہاں
بتا کے چل دیا ، کوئی مجبوریاں جُدائی کی

ہر ایک اہلِ جنوں ، زَد پہ ہے کہ جِس نے یہاں
امیرِ شہر کی ، ہیئت پہ لَب کُشائی کی

مداراتِ عاشقاں سے گُریز،راکھ کر گیا شمع
خدایا خیر ، کسی کے کَفِ حِنائی کی

ستم کو ہم نے عنایت کہا ، تیری ہمدم
ہر ایک حال میں ، ہم نے مَدَح سَرائی کی

۔2 مئی 2015

No comments:

Post a Comment