Sunday, 7 December 2014

"بھلائے نہ گئے"

وہ خواب آنکھوں میں اُترے ، نہیں بھلائے گئے
تھی جن کے ساتھ کی حسرت کبھی نہ آئے،گئے
خُدا بنے وہ ، محبت میں جن کی ، دنیا کو
عزیز سمجھا ، نہ کبھی وجہ انبساط کہا
وہ جن کی آنکھوں سے ہر صبح ہم نے کی آغاز
رُخِ انور کو ماہتاب ، گھنے گیسوؤں کو رات کہا
وہی تو باعثِ ناکامئ وفا ہیں جن کے لئے
ستم کو ہم نے کرم ، اُن کا التفات کہا
اُنہی کے فیض سے ہم قتل گاہ میں لائے گئے
وہ خواب آنکھوں میں اُترے، نہیں بھلائے گئے
ہے خوشگوار چہروں کا اب بھی وہی پرانا چلن
کہ عہد ایک سے ، گیسو کسی پہ سایہ فگن
نہیں کہ ہم نے ہی کھایا ہے اُس نظر کا فریب
فگار دِل ، سبھی ماتم کناں طیورِ چمن
مگر یہ دل کہ تیرا نام اب بھی لیتا ھے
یوں جیسے،اجنی کرے پردیس میں ثنائے وطن
پڑا وہ قحطِ وفا ، احباب کیا کہ سائے گئے
وہ خواب آنکھوں میں اُترے ، نہیں بھلائے گئے
تھی جن کے ساتھ کی حسرت کبھی نہ آئے،گئے