Wednesday, 26 March 2014

"رشتۂ دل"

سزا ملی یہ مجھے تجھ سے رشتہء دل کی
کہ عمر بھر نہ ہوئی طے ، راہ منزل کی

غُبارِ راہ تو کیا ہم کو بدگماں کرتا
مگر نظر وہ کسی مہربان قاتل کی

خدا کرے نہ تجھے , تجھ سا کوئی شخص ملے
کہ سینہ سنگ سا ، اور خُو ترے تجاہل کی

نثار اُن کے جنہیں قُرب تیرا حاصل ہے
عطا ہمیں تو ہوئی , توقیر بس تغافل کی

فریب کھاتا گیا ولے دل ، کہ بدگماں نہ ہوا
بھلا سکا نہ وہ تری ، اُلفتیں اوائل کی

خُدا کرے ترا اقبال ہو بلند بہت
مقام ایسا ، تمنا ہو جسکے حاصل کی

"ساعت ِوصلِ یار کی صورت"

چشمِ یاراں خُمار کی صورت
خامشی میں پُکار کی صورت
اُس کی باتوں میں گنگناتا ہے
کوئی جھرنا کہیں آبشار کی صورت
اُس کا ہنسنا ، چمن کی بُود و باش
گلوں کے رنگ ، نویدِ بہار کی صورت
جمالِ یار ، خاص باعثِ انوار
تابشِ شمسِ نِصفُ النَہار کی صورت
ہم ترے عشق کے الاؤ میں
جل بجھے ہیں انگار کی صورت
نخلِ جاں پہ فصلِ گل میں تیری یاد
کِھل گئی ، برگ و بار کی صورت
اُس کے وعدے نہیں سوائے فریب
جل بجھے سب ، شرار کی صورت
ملول لطف پہ اور ستم پہ ہیں شاداں
بدل دی تم نے عیش و قرار کی صورت
عشق کا کھیل جیتنا ہے اگر
ڈھونڈ لو کوئی ھار کی صورت
تھی شبِ ہجر یُوں طویل و سیاہ
ہُو بہ ہُو ، گیسوئے یار کی صورت
گاہ جینا بھی ، گاہ مرنا بھی
حیات یعنی ، مسلسل آزار کی صورت
جی جلانا ہے جی کا آ جانا
خزاں میں ڈھلنا بہار کی صورت
پا گئے ، رفعتوں کا اوجِ کمال
جو بنے انکسار کی صورت
جتنی بڑھتی ہے اتنی گھٹتی ہے
زندگی ، ہجرِ یار کی صورت
عمرِ کوتاہ ، اُس سخی کی عطا
ساعتِ وصلِ یار کی صورت


Saturday, 15 March 2014

"ردائے دوست"

سزا ملی یہ مجھے تجھ سے رشتہء دل کی
کہ عمر بھر نہ ہوئی طے ، راہ منزل کی
غُبارِ راہ تو کیا ہم کو بدگماں کرتا
مگر نظر وہ کسی مہربان قاتل کی
خدا کرے نہ تجھے , تجھ سا کوئی شخص ملے
کہ سینہ سنگ سا ، اور خُو ترے تجاہل کی
نثار اُن کے جنہیں قُرب تیرا حاصل ہے
عطا ہمیں تو ہوئی , توقیر بس تغافل کی
فریب کھاتا گیا ولے دل ، کہ بدگماں نہ ہوا
بھلا سکا نہ وہ تری ، اُلفتیں اوائل کی
خُدا کرے ترا اقبال ہو بلند بہت
مقام ایسا ، تمنا ہو جسکے حاصل کی


Monday, 10 March 2014

"دھیان"

عجب ہے اُس کا رویّہ، سپُردگی نہ گریز
جو مہرباں بھی ہوا،اس طرح ، گماں نہ ہوا
میں اُس کے دھیان کی کن منزلوں پہ رہتا ہوں
وہاں بھی اُس کو ہی پایا ہے، وہ جہاں نہ ہوا