Saturday, 25 January 2014

" ہرجائی"


رفتہ رفتہ تیری محفل کی شناسائی سے
پارساؤں کے بھی چہرے لگے ہرجائی سے
خواہشِ دید تیری محفل میں بھی تشنہ ہی رہی
ہم کو ڈر تجھ سے ، اور تجھے رسوائی سے
امیدِ تلطف میں تیرے آشفتہ سروں نے 
معنی لئے کیا کیا ، تیری انگڑائی سے
لمسِ جاناں مرے ہر درد کا درماں ایسے
سطحِ دریا جُوں ابھرنا کسی گہرائی سے
یار لوگوں نے نبھایا ہے تعلق کتنا
بات پہنچی جو محبت پہ شناسائی سے
دِل دریدہ ہیں تو کیا ، اِسی نسبت سے
گل قبا چاک ہیں تیرے رُخِ زیبائی سے
تم کو معلوم نہیں دشتِ وفا کا احوال
نوکِ ہر خار پہ خُوں ہے مری سیٓاحی سے
جنوری 25، 2014 


"پیکرِرعنائی "


"اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو "

میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی ہو
چمنِ دہر میں روحِ چمن آرائی ہو
طلعتِ مہر ہو ، فردوس کی برنائی ہو
بنتِ مہتاب ہو ، گردوں سے اتر آئی ہو
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے
میں نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے
خاک میں، آہ، ملائی ہے جوانی میں نے
شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے
شہرِ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
حُسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے
میرے پیمانِ محبت نے سپر ڈالی ہے
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
سر پہ سرشاری و عشرت کا جنوں طاری تھا
مہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا
شہر یاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
بسترِ مخمل و سنجاب تھی دنیا میری
ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری
کیا سنو گی میری مجروح جوانی کی پکار
میری فریادِ جگر دوز میرا نالۂ زار
شدتِ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار
میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار
وہ گدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لاؤں؟
اب وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں؟
اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو؟
 جنوری 25، 2014







Saturday, 11 January 2014

"واقفِ حال"

نصیب ہو تری قُربت ، دیرینہ آرزُو اپنی
تمہارا قُرب ، اک عُمر کا ہے خواب و خیال
مگر خُدا ہو کہ تُو ، دونوں ہی نہیں شاید
ہماری سوچ کے قائل ، ہمارے واقفِ حال
 2014،12 جنوری