Wednesday, 9 April 2014

"خاک ہونا تھا"

زبُوں ہوئے کہ ترے در کی خاک ہونا تھا
ہمیں کہ تیری محبت میں طاق ہونا تھا
خلوص اتنا ، محبت بھی حد سے تھی زیادہ
جنون شرط تھا ، گریباں تو چاک ہونا تھا
گناہِ راست گوئی ، اُس پہ بے ریا الفت
یہ جرم ہوں گے تو قصہ تو پاک ہونا تھا
دھیان اسی کا رہا جس نے دھیان ہی نہ دیا
وصال ایسی محبت میں ، خاک ہونا تھا
تری جدائی کے صدموں نے توڑ پھوڑ دیا
وگرنہ ایسے کہاں ، ہمیں ٹھیک ٹھاک ہونا تھا
ہمیں تو جو بھی ملا ہم نے رہنما جانا
سو ایسے سادہ دلوں نے ہلاک ہونا تھا
اپریل 2014،9

No comments:

Post a Comment