Saturday, 28 December 2013

"فاصلہ"


عذاب جن کا مقدر ، وہ مبتلا ہی رہے
وہ پاس آئیں مگر ، صدیوں کا فاصلہ ہی رہے
یہ کیا کہ تیری محبت ، نہ راس آئی ہمیں
جنہیں وصال کی خواہش ، الگ سدا ہی رہے
دسمبر22، 2013

Tuesday, 17 December 2013

"رنگ باتیں کریں "

عجب حیات کے سب رنگ بدلنے لگتے ہیں
نظر کہیں پڑے تجھے یاد کرنے لگتے ہیں

تمہاری آنکھوں سے جب صبح کا پیام آئے
 چہار سُو رنگ و انوار اُترنے لگتے ہیں

تمہارے چہرے کا جب چاند سا نکلتا ہے
سمندروں کے کنارے بپھرنے لگتے ہیں

جو خود پہ ناز کریں آہوانِ مست خرام
تری رفتار کے سیماب بہنے لگتے ہیں

عنادل اپنی دھنوں میں جب بھی گیت کہیں
تو جلترنگ تری باتوں کے بجنے لگتے ہیں

شفق کے پُھوٹتے ہی آسماں پہ ، نظروں میں
وہ شیریں لب ترے،رُخسار ابھرنے لگتے ہیں

کبھی جو رات کی تاریکیاں سی چھا جائیں
کیوں گیسوؤں سے ترے لوگ جلنے لگتے ہیں

غرض کوئی  ہو منظر،دِکھے وہی ،ایسا
مقام آتا ہے جب لوگ عشق کرنے لگتے ہیں

دسمبر 17 ،2013