Monday, 25 November 2013

"کرم"


کرم کا عہد بھی ، تم ہم سے کچھ گریزاں بھی
کسی کی جان نہ لے ، یہ کیفِ گو مگو ساقی
کبھی جو تیری طلب بن جائیں ہم بھی،یوں جاناں
یک جان ھوں، رہے نہ کوئی ، فرقِ ما و تُو باقی
 نومبر26، 2013

Saturday, 16 November 2013

" اشکبار "

 خود اپنے خوں سے رہِ یار کو سنوار آئے
ہم رہروانِ رہِ عشق ، جب بہار آئے 

حضورِ یار ہوئی جب طلب دیوانوں کی
دریدہ دامن و دل لے کے جاں نثار آئے

کسی نے عشق، کسی نے کہا جنون و فسوں
اِدھر اُدھر سے کئی القاب میرے یار آئے

ڈٹے رہے تیرے مسلک پہ تیرے شیدائی
گو ناصحوں کے سندیسے بھی بے شمار آئے

جنون والوں پہ گزرتی ہے جو وہی گزری
سو جُھومتے ناچتے نکلے تھے اشکبار آئے

مگر دیوانوں کا دو چند ہو گیا ہے جنوں
طوافِ کوچہء جاناں ، کو بار بار آئے

قبائیں چاک گلوں کی اسی جنوں کے سبب
فضا میں نشہ ہی نشہ ہو ، جب بہار آئے

نہ، کیا سبب ہے درِ یار چھٹ سکا ،گرچہ
سدا ، مسافرانِ رہِ یار دل فگار آئے 

قضا بھی آکے ٹھہر سی گئی دیوانوں کی
 کہ لے کے چل سکے، انہیں کچھ دیر گر قرار آئے
 نومبر  2013،16 



Friday, 15 November 2013

" سائباں"

"والد ماجد کی رحلت پر"


اک گھنا پیڑ ،مرا سائبان تھا ، نہ رہا

مثالِ اَبر و چُوں آسمان تھا ، نہ رہا

ہوائے تُند سے نا آشنا رہے گا چمن

جو وجہِ زُعم ،بِنائے گمان تھا،نہ رہا

 نومبر 4 ،2004


Thursday, 14 November 2013

" برف چہرہ "




کہا تھا تم نے میری جان مجھ سے گزری کل
کہ بیوفا ہے خیالوں کا تیرا ہمراہی
نہ حِس ہے اُس میں وفا کی
نہ بیوفائی کی
بس ایک برف کا گولہ ، جو منجمد ساہے
تراشتا ہے وہ ، الزام تم پہ بے معنی
نہ جن کی اصل ہے کوئی
نہ ہی وجود ان کا
وہ سات پردوں میں ، خود کو چھپائے بیٹھا ہے
بس ایک خول سا ، خود پر چڑھائے بیٹھا ہے

اگر یہ خاطرِ معصوم پر گراں نہ رہے
تو عرض ایک ، میں چھوٹی سی کرنا چاہوں گا
کہا جو تم نے ، وہ حرف حرف سچ ہے مگر
کبھی تو سوچو ، مری جان، میری معصومہ
کہ طرز کیا ہے
ترے لطف ، تری عنایت کا
جو کھردرا سا رویہ رہا ہے ، اس نے کبھی
یہ پوچھ دل پہ ، نہ کیا کیا پہاڑ توڑے ہیں
وفا کی ٹھنڈی ہواؤں کی ، ایک خواہش میں
نہ پوچھ من پہ ، کیا تپتی آگ برسی ہے
یہ سات پردے ہی تھے ، تب جو کام آئے ہیں
ترے خموش پجاری نے ، خود پہ ڈھانپ لئے
تمام آگ برسنے ، لہو ٹپکنے کے
وہ دردناک مناظر ، چھپا لئے من میں
مگر نہ ایک بھی ، اس کے لبوں پہ آہ ملی
کبھی نہ اس نے ، ترے در پہ احتجاج کیا

نہ دکھ تھا اس کو ، ان ساری گزری باتوں کا
مگر وہ آج اس وقت ، ٹوٹ پھوٹ گیا
کہا کسی نے جو ، بے حِس ، کسی نے خول میں بند
کسی نے برف کی مانند , کہا کہ سرد ہو تم
ــــــــــــــــــــــــــــــ

Saturday, 9 November 2013

"آمد ِبہار کے ساتھ"

دیئے گلوں کے جلے پھر، آمدِ بہار کے ساتھ

شگوفے دل کے کھلےامیدِ وصلِ یارکے ساتھ

دلِ حزیں نے دکھائے وہ دن ، خدا کی پناہ

نہ شب سکوں سے،کٹا کوئی دن قرار کےساتھ

ہمیں گلہ بھی نہیں تیری بے رخی کا , کبھی

کریں گے شکوے گلے اپنے کرد گار کے ساتھ

وفا تو شیوہ نہیں یوں بھی مہ رخوں کا ، کوئی

نہیں جوازِترحّم ،مرے صیاد کا شکار کے ساتھ

شیوخِ شہر سے کہہ دو یہ میکدہ ہے یہاں

قیودِ حفظِ مراتب کہاں ، خمار کے ساتھ

مثالِ یوسفِ کنعاں ، ہمیں برادرانِ عزیز

سپردِ چاہ ، کریں گے اُسی وقار کے ساتھ

ہمیں بھی چین نہیں تیری نفرتوں کے بغیر

تمہیں بھی اُنس سا ہونے لگا ہے پیار کے ساتھ

عنایت اُن کی نظر میں عجب کرامت تھی

 کہ دل کو چین بھی ملتا رہا غبار کے ساتھ

 نومبر 10 ،2013

"خلش"

تمہیں شکستہ دلوں کا ، خیال آ ہی گیا
ریزہ ریزہ ہوا دل ، تم سے مگر بُرا نہ ہوا
تمام عمر جسے بے انت میں نے چاہا تھا
 ملول ہو کے بھی ،صد حیف وہ مرا نہ ہوا
نومبر 9، 2013

Wednesday, 6 November 2013

" حُسن ِبلاخیز "

اُس حسنِ بلا خیز کی ، کیا بات کریں ہم

درماں جو خود ہی ، باعثِ آزار بھی خود ہے

جب سے دلِ وحشی ہے ترے عشق میں گھائل

یادوں سے گریزاں ہے تو ، برسرِ پیکار بھی خود ہے

نومبر 6 ،2013


" پندار ِمحبت"

پندار چُور چُور ہُوا ، کُھل کے روئیے
مُدت کے بعد آج ،ذرا سُکھ سے سوئیے

جو کچھ کہا ہے آپ نے وہ سب بجا حضور
دشنام کی اَنی میں ،ہمیں کو پروئیے

مقتل ابھی سجا نہیں ،کسی آوازِ مَست سے
زنجیر ہی کا شور ،کہ چپ بھی نہ ہوئیے

گلشن میں آج بادِ صبا، کہہ گئی ہے کیا
بلبل سے بڑھ کے گل نے کہا، جاناں نہ روئیے

دن ڈھل گیا جو زیست کا، اور شام آ گئی
وہ آنکھ رو پڑی ہے کہ، لِلّہ نہ سوئیے

جب مہرباں نفس نہ ملے، کائنات میں
  شانے پہ کس کے سر رکھے موتی پروئیے
 نومبر 6 ،2013

Monday, 4 November 2013

"یاد"

تمام رات مجھے لوریاں سناتی ہے

تمہاری یاد جو پہلو میں لیٹ جاتی ہے

وصال کی تو نوازش کبھی نہ ہم پہ ہوئی

مگر صبا، ترے کوچے سے جب بھی آتی ہے

تری مہک، تری خوشبو، تری ھنسی کی کھنک

عجب ، لطیف خزینے سمیٹ لاتی ہے

کہاں جناب، کہاں ہم، مگر طلب اکثر

کشاں کشاں تری راہوں میں کھینچ لاتی ہے

عناہت آپکا شیوہ نہیں رہا ہے کبھی

 حیات ڈھل گئی امید اب بھی باقی ہے
نومبر 5 ،2013

"یاد"

 یاد آتی ہے اُس کی"،گویا "دوست تھا اپنا"

 ساتھ جس کا عنقا ہے،وصل جس کا اب سپنا"

یاد تپتا صحرا ہے ، کونپلوں سے نازک تم 

خیر پم پہ جو گزری ، دھیان رکھنا تم اپنا 

نومبر 5 ،2013

Saturday, 2 November 2013

" فصل ِلالہ وگل "

تمہاری بے رُخی اب بھی نظر نہیں آتی

وہ بے وفا ہے تو کیوں دل سے اُتر نہیں جاتی

کہ گُل کھلیں نہ کھلیں ، زخم کھل اُٹھیں ہیں تمام

یہ فصلِ لالہ و گل ، یو نہی بے ثمر نہیں جاتی
 یکم نومبر  2013

"تشنہ کام"

مدام تیرے ، ہم ایسے زیرِ دام رہے
بنا کرم، کسی الطاف ، تیرے نام رہے
ہوائیں یوں بھی کسی کا بھرم نہیں رکھتیں
دئیے جلیں گے وہی جن کا فیض عام رہے
ہم ایسے خستہ تنوں کا بھرم رہے قائم
بحال میکدہ ، پیاسا اگر نہ جام رہے
یہ معجزہ تری قربت کا ، کج کلاہوں نے
جہاں پہ راج کیا اور ترے غلام رہے
عنایت اُن کی بیاں کیا کریں یہی سمجھو
کہ یاریاں تھیں سمندر سے اور تشنہ کام رہے

 اکتوبر 31 ،2013

" تشنہ لب"

نگاہ ساقی کی ، ہوئی مہرباں تو کب
تشنگی ہی رہی باقی ، نہ تیرے تشنہ لب
تمام عمر رہا ، تیری مہرباں نظر کا جنوں
خیال آیا انہیں ، ہم خاک ہو گئے تھے جب
 اکتوبر 29 ،2013

"آشنا نا آشنا"

جب تک تمہاری چاہ میں یہ دل دُکھا نہ تھا


اس میں ، خبر نہ تھی کہ کوئی دوسرا نہ تھا


جی جان سے عزیز رہا جس کا دھیان وہ

یوں چل دیا کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھا

دنیا عجب سرائے ہے ، یاں جس سے دل ملا

وہ ساتھ گر چلا بھی مرا ہمنوا نہ تھا

میں گر پڑا تو رک گیا لوگوں کا اک ہجوم

جس پر مِرا یقین تھا بس وہ رکا نہ تھا

جس نے لہو چمن کی نمو میں دیا اسے

آئی تھی فصلِ گل تو کوئی پوچھتا نہ تھا

ہم لوگ اپنی اپنی اناؤں میں ایسے قید

دل سجدہ ریز اس جا، جہاں سر جھکا نہ تھا

اب کے برس جو آؤ تو پاؤ گے بس نشان

اس شخص کا جو تیرے سوا کچھ سوچتا نہ تھا
 اکتوبر22، 2013

"غم ِامروز"

یہ دن بھی گزر جائیں گے اک روز، اسے کہنا
ہم لوگ چلے جائیں گے، بس کچھ روز، اسے کہنا
تم کو ہے خبر کیا ، کہ محبت میں ہیں ، کیا دکھ
دل چیر گیا ، اک سانحہ دلدوز ، اسے کہنا
ہم ہوں کہ نہ ہوں کل ، ہر دل کی حکایت
ہر آنکھ بھگو دے گا ، غمِ امروز، اسے کہنا
دن رات ترے رنگیں ہوں نصیبوں کی طرح سے
پھیکے ہیں ترے بعد، اپنے شب و روز، اسے کہنا
بچ پاؤ جو دشمن سے، تو لازم ہے نظر رکھنا
اپنوں کے بھی دامن پہ ، ہو نو آموز، اسے کہنا
اکتوبر 12، 2013

" سنگ ِالتفات"

پھر جل اٹھا، امید کا، یہ جان کر دیا
یاروں نے ہم پہ، پھر کوئی احسان کر دیا
دل کا کھنڈر اگرچہ، ویراں تھا دیر سے
امید کے گلوں نے، گلستان کر دیا
اک سنگدل،خنک سے،بے رحم شخص کی
پیہم نوازشات نے ، ہمیں حیران کر دیا
یادوں کے ٹھہرے پانیوں میں، سنگِ التفا ت
یکدم گرا کے ، واقفِ ہیجان کر دیا
اک عمر بعد ،چل تو پڑی لطف کی ہوا
شوقِ ملن سے، دست و گریبان کر دیا
ہم آپ کی عنایت و اکرام کے طفیل
تھے کس قدرسبک، ہمیں ذی شان کر دیا
اکتوبر5 ،2013


"تصور"

فراق و وصل میں ، کچھ فرق تو نہیں ایسا
وہاں بھی تیرا تصور ، یہاں بھی تم ہی تم
اگرچہ دیر سے ، تیرا ساتھ بھی نہیں لیکن 
 تیرے خیال سے نکلیں تو ہوں جہان میں گم
اکتوبر2013،4

" گنج ِبے بہا"

اسباب گو نہ تھے مگر اس حسنِ بے پناہ کا
اک گنجِ بے بہا ، مری دسترس میں تھا
پھر "اُس" کے بعد تھے تو زر و سیم بھی مگر
 غربت کا زہرِ افعی ، مرے ہر نفس میں تھا
ستمبر 29 ،2013

"جاں نثار"

عذاب کس نے سہے تھے ، گناہ گار تھا کون


دو نِیم کس نے کیا دل ، وجہِ انتشار تھا کون


خموش ہیں تو یوں بھی نہیں ، خبر ہی نہ ہو

 

 کمان کس نے سنبھالی تھی اور شکا ر تھا کون


کوئی شتاب بہت ، نئی منزلوں کے پانے کو

 

تھا پاسِ وعدہ کسے محوِ انتظار تھا کون


تری جدائی کا منظر ، کبھی نہ بھولے گا


تھی دیدنی خوشی کس کی ، اور اشکبار تھا کون


نہ بھول کر بھی تری بے وفائیوں کا ذ کر کیا


 خوشی عزیز کسے تیری ، تیرا جانثار تھا کون


 ستمبر 27 ،2013


"نذر"

تری ھنسی کی نذر بھی اتار دی ہم نے
متاعِ جاں ، تری صورت پہ وار دی ہم نے
خود اپنے خون سے سینچا ہے ہم نے ہر غنچہ
خزاں پہن کے ، چمن کو بہار دی ہم نے
ستمبر 27 ،2013

"مآل ِحیات"

عجب سکوت ہے محشر کوئی بپا ہی نہیں
کہ تیرے بعد نظر میں کوئی جچا ہی نہیں
تمہارا ساتھ گل و خوشبو کا اک حسین سفر
تمہارے بعد تو گلشن کی وہ فضا ہی نہیں
تمہارے وعدہ و پیماں مثالِ رقصِ شرر
جو جل بجھے ہیں تو جینے کا حوصلہ ہی نہیں
ہم ایسے سادہ دلوں کا یہی مآلِ حیات
چھٹا جو ساتھ تو منزل کا کچھ پتہ ہی نہیں
ہیں چند روزہ رفاقت پہ اس قدر نازاں
کہ بے رخی کا تری دکھ کوئی گلہ ہی نہیں
ستمبر 26 ،2013

" یقین و گمان"

محبتوں میں بندھے قَول ٹوٹ جانے سے
یقیں پلٹتا نہیں ، جا کے لَوٹ آنے سے

ھنسی تِری تو ، باعث تھی فصلِ گل کی مگر
خزاں بھی دور نہیں ، نین بھیگ جانےسے

کبھی تو ایسا بھی تھا جانِ انجمن گویا
گمان تیرا ، ہوا تھا بہار آنے سے

امید بندھ گئی تِرے آشفتہ سر کی جلووں سے
اور آس ٹوٹ گئی ، تیرے بام پر نہ آنے سے

ضیائے شوق کسی طَور کم ہوئی نہ کبھی
لَو اور دینے لگی ، تیرے بے رخی دکھانے سے

کسے خبر تھی کہ ہم چھوڑے جاتے ہیں دنیا
شہر میں عام ہوئی ، تیرے بام و در سجانے سے

ترا دیوانہ بھی ، ناحق تھا باعثِ شورش
فضا بحال ہوئی اسے بزم سے اٹھانے سے

ستمبر26، 2013

"قسم"

تیرے دہکے لب و رخسار کی حِدت کی قسم
تیری یادوں ، کے جہنم میں گرفتار ہیں ہم
خاص مدت کو مکیں لوگ ، بقدرِ عصیاں
دائمی ہم ، کہ محبت کے گنہگار ہیں ہم
 2013، ستمبر 24

"کوچۂ دلبر"


 بہار آئی ، تو یکبارگی اُمڈ آئے
تِرے خراب ، تِرے عشاق ، تیرے اہلِ جنوں 
کبھی تھے کوچۂ دلبر میں جا کے محوِ نماز
سبو بدست کبھی پاکیزگئ دامن کوں
 ستمبر 22، 2013

:تبسم"

گو نام کے ہیں ، "تبسم" مگر اثر الٹا
کبھی ہنسیں نہ ہی بھولے سے بھی وہ مسکائیں
ملول ہوں وہ کبھی بھی ، مگر خدا نہ کر ے
ہر اِک خوشی انہیں ڈھونڈے سدا وہ سکھ پائیں
ستمبر  2013،21



"ادق باتیں"




محبتوں میں بھی ، سو فلسفے ، ادق باتیں
خِرد سے ان کو شغف ہے ، جنون اپنا یقیں
نشاطِ وصل ہے ممکن ، وہ فاصلوں پہ کہیں
بنا سمیٹے انہیں پہلو میں ، ہم کو چین نہیں
..............
تمہا ری بے خبری کی تمہیں خبر ہی نہیں
ہما ری آہ و بکا کا ، بھی کچھ اثر ہی نہیں
بس اک عداوت و بیگانگی تسلسل سے
دیئے وہ زخم ، دوا جن پہ کارگر ہی نہیں

2013،ستمبر 19

Friday, 1 November 2013

" چاند اور چاندنی"


تیرا اپنا نام یکجا ، رات بھر لکھتا رہا

یہ انتہائے سادگی میں رات بھر کرتا رہا

تو ، پِیا اپنے ، کے گھر آنگن کا چاند

چاندنی کی خواہشیں میں رات بھر کرتا رہا