Sunday, 14 June 2015

" کیا گلہ ہونا"

مہرباں ہو کے ، اُس کا بے وفا ہونا
کیا ہوئے ، چاہتے تھے کیا ہونا

تیرے جانے نے ہم کو بتلایا ــ
سنتے آئے تھے ہم ، ہَوا ہونا

میں ہوں آئینہ ، میری قسمت ہے
ٹوٹنا ، اور جا بجا ہونا ـــــــ

تُو کہ ہیرا ہے ، تیری فطرت ہے
حُسن و سختی میں انتہا ہونا

سُبک روی تیری،لے اُڑی تجھ کو
سو اب ہمارا مقدر غبارِ راہ ہونا

چمن لُٹا ہے مِرا،باغباں کے ہاتھوں سے
کسی سے تِیرہ نصیبی کا کیا گلہ ہونا

جون 14۔۔۔2015

Friday, 5 June 2015

"مات"

عَداوتوں کا تسلسل بھی اِلتفات ہی ہے
دل اِس کو جیت ہی مانے ہے گرچہ مات ہی ہے

وہ لوگ کیسے جیئیں جن کی مشکلیں ایسی
نظر فلک پہ ، سفر سُوئے اِنحطاط ہی ہے

اُسے جو دیکھوں تو ، کب کا وہ کر گیا تنہا
اور اپنے دل میں جو جھانکوں تو اب بھی ساتھ ہی ہے

اُجالا پھیل گیا ، چاروں اَور رُخ سے ترے
بکھر گئے ترے گیسو تو دن بھی رات ہی ہے

تھمے گا کب اے خدا ، سلسلہ عذابوں کا
بعد مرگ بھی ، گر سلسلہء حیات ہی ہے

غمِ زمانہ غمِ جاناں میں مل کے دُونا ہوا
پَہ آگ جتنی بھی بھڑکے مآل راکھ ہی ہے


Thursday, 4 June 2015

"بےقرار"

پَرتَوِ یار سے بجھ گئی ، شمعِ آفتاب
اِس سَیلِ نُور کی کوئی کیسے لائے تاب

آمد ہے فصلِ لالہ کی ہر ساز نغمہ بار
محتاجِ دستِ غیر رہے چنگ نہ رُباب

دِل تَک رہا ہے پھر سے اُسی بے وفا کی راہ
پیماں شکن جو ایسا کہ شرمائے ہے حباب

کیسے گزر رہی ہے ترے بعد کیا کہیں
کوئی ترجمانِ حال ہو کیا ، جُز ماہئ بے آب

مشتاقِ دید آنکھوں میں لئے خواب بے قرار
مستور حسنِ یار پسِ صد چلمن و نقاب

4جون 2015

Wednesday, 3 June 2015

"تعلق"

"کسی کے زہر میں بجھے لفظ دیکھ کر"

=======================

اُداس تم ہو ، کسک میرے دل میں ، کیا معنی؟

تمہارا میرا ، تعلق ہے اب بھی کچھ ، یعنی ؟


میں دیکھ سکتا ہوں تہہِ خورشید تم کو جلتے ہوئے

نہ عافیت کا ہی سایہ ، نہ کوئی ابر ہی ہے

 

اسیرِ رنج ہو تم ، اور میں فقط تصویر

محال دست گیری کہ ، حالات کا یہ جبر ہی ہے

 

کرب نارسائی کا بھی ، اور بے بسی ایسی

نہ ایسے میں کوئی چارہ ، سواۓ صبر ہی ہے

 

ثبات دُکھ کو ہمیشہ سے ، اور خوشی فانی

اُداس تم ہو ، کسک میرے دل میں ، کیا معنی؟
 

خُدایا تجھ کو ہی زیبا ہے ، شانِ سلطانی

نہ لا وہ دن ، کہ تیرے لوگ بھی خُدا ہو جائیں

 

جب آئے تِیر صفِ دشمناں سے ، ایسے میں

دیکھنا عزیزو تم ، دوست کیا سے کیا ہو جائیں

 

ہم نشیں ، وقت پر ، رزم گاہِ ہستی میں

کیا گلہ ہے اپنوں کا ، سائے بھی جُدا ہو جائیں

 

ہوا چلے جو مخالف تو امید رکھنا نادانی

اُداس تم ہو ، کسک میرے دل میں ، کیا معنی


اداس تم ہو ، کسک میرے دل میں ، کیا معنی؟

تمہارا میرا ، تعلق ہے اب بھی کچھ ، یعنی

جون 2 ۔2015

Tuesday, 26 May 2015

"اساس کیا ہے "

رہروانِ رہِ وفا کی اساس ہی کیا ہے

دریدہ دامن و دل اور خیال شوریدہ

بس اک نگاہ تھی کافی نہ تم سےوہ بھی ہوئی

تمام عمر رہے گریہ کناں و نم دیدہ 

  فروری9 ۔2015۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے حُسن کا ، مہتاب بام پر نکلا

شرابہ ، اور دلِ وحشی کا ہو گیا ہے دو چند

تمہارے قُرب کی خواہش ہی غیر فطری ہے

کبھی ، لگا نہیں مخمل میں ٹاٹ کا پیوند 

  مارچ 26 ۔۔2015۔

۔۔۔۔۔۔

سکوتِ شب میں ابھر آیا تیری یاد کا چاند
وہ چاندنی کہ ہر اک داٖغ دل فروزاں ہے
عنایتیں تری اس درجہ ہم پہ ہیں جاناں
بکار اب تو ہمیں ، علاجِ بُخلِ داماں ہے

12 مئی 2015

"وجۂ بےوفائی"

ہماری بندگی ہی بنی ، وجہ بے وفائی کی
شِعار کی ہے ، بُتوں نے رَوِش خُدائی کی

اُسی مقام پر ، ہم آج تک کھڑے ہیں جہاں
بتا کے چل دیا ، کوئی مجبوریاں جُدائی کی

ہر ایک اہلِ جنوں ، زَد پہ ہے کہ جِس نے یہاں
امیرِ شہر کی ، ہیئت پہ لَب کُشائی کی

مداراتِ عاشقاں سے گُریز،راکھ کر گیا شمع
خدایا خیر ، کسی کے کَفِ حِنائی کی

ستم کو ہم نے عنایت کہا ، تیری ہمدم
ہر ایک حال میں ، ہم نے مَدَح سَرائی کی

۔2 مئی 2015

Sunday, 7 December 2014

"بھلائے نہ گئے"

وہ خواب آنکھوں میں اُترے ، نہیں بھلائے گئے
تھی جن کے ساتھ کی حسرت کبھی نہ آئے،گئے
خُدا بنے وہ ، محبت میں جن کی ، دنیا کو
عزیز سمجھا ، نہ کبھی وجہ انبساط کہا
وہ جن کی آنکھوں سے ہر صبح ہم نے کی آغاز
رُخِ انور کو ماہتاب ، گھنے گیسوؤں کو رات کہا
وہی تو باعثِ ناکامئ وفا ہیں جن کے لئے
ستم کو ہم نے کرم ، اُن کا التفات کہا
اُنہی کے فیض سے ہم قتل گاہ میں لائے گئے
وہ خواب آنکھوں میں اُترے، نہیں بھلائے گئے
ہے خوشگوار چہروں کا اب بھی وہی پرانا چلن
کہ عہد ایک سے ، گیسو کسی پہ سایہ فگن
نہیں کہ ہم نے ہی کھایا ہے اُس نظر کا فریب
فگار دِل ، سبھی ماتم کناں طیورِ چمن
مگر یہ دل کہ تیرا نام اب بھی لیتا ھے
یوں جیسے،اجنی کرے پردیس میں ثنائے وطن
پڑا وہ قحطِ وفا ، احباب کیا کہ سائے گئے
وہ خواب آنکھوں میں اُترے ، نہیں بھلائے گئے
تھی جن کے ساتھ کی حسرت کبھی نہ آئے،گئے